BSEC OFFICIAL WEBSITE

ہمارے تعلیمی نظام اور اس مین اصلاح کی صورت

 ہمارا ایجوکیشن سسٹم 


بات صرف بی آر سی کی نہیں، ہمارا پورا تعلیمی نظام ایک ایسی الجھی ہوئی گتھی بن چکا ہے، جسے سلجھانا اب ممکن نہیں۔ اس کی اصلاح کی ایک ہی صورت ہے کہ اسے گرا کر، نئی بنیادوں پر نیا نظام وضع کیا جائے، موجودہ سیاسی انتظام کے ہوتے جس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہی ہے... مگر خواب دیکھنے میں کیا ہے! 


اس وقت ہمارے ہاں میٹرک تک بنیادی تعلیم تین مختلف اداروں کے ذریعے ہو رہی ہے:

- سرکاری سکولز

- پرائیویٹ سکولز 

- مدارس 


اسی طرح انٹرمیڈیٹ کے مختلف ذرائع یہ ہیں:

- سرکاری کالجز

- بی آر سیز 

- کیڈٹ کالجز 

- پرائیویٹ کالجز 

- مدارس 


ان سب کا طریقہ تدریس یکسر جدا اور مختلف ہے۔ چیک اینڈ بیلنس برائے نام ہے۔ نجی ادارے اور مدارس اپنی مرضی کا نصاب پڑھاتے ہیں۔ سرکاری کالجز حکومت سے منظور شدہ نصاب پڑھاتے ہیں، مگر ان کا حال انتہائی برا ہے۔ بی اے، بی ایس سی پروگرام ختم ہونے کے بعد اب ڈگری کالجز صرف اے ڈی ایس کی ڈگری دے رہے ہیں، صرف چند منتخب کالجز ہی بی ایس کروا رہے ہیں۔ یعنی گریجویشن کے لیے اب یونیورسٹی جانا ضروری ہے۔ جہاں سمسٹر سسٹم کی فیسیں عام آدمی کے بس سے باہر ہو چکی ہیں۔


ایسے میں ایک مناسب لائحہ عمل یہ ہو سکتا ہے؛


1۔ سکولز کو ہائیر سیکنڈریز تک کر دیا جائے۔ انٹر کالج ختم کر کے انہیں ہائر سیکنڈری کا درجہ دے دیا جائے۔ 


2۔ سرکاری کالجز اب برائے نام ہی رہ گئے ہیں، بہتر ہو گا کہ انہیں ختم کر کے ہر ضلعے کی سطح پر لڑکے اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ ایک ریزیڈنشنل کالج قائم کیا جائے، اسی طرح ڈویژن کی سطح پر کیڈٹ کالج ہوں۔


3۔ بلوچستان میں اب خاطر خواہ جامعات قائم ہو چکی ہیں۔ کوئٹہ کے بعد تربت، گوادر، لسبیلہ، خضدار، رخشان، سبی اور لورالائی میں یونیورسٹیاں قائم ہو چکی ہیں۔ ڈیرہ مراد کے لسبیلہ یونیورسٹی کیمپس کو فل فلیج یونیورسٹی قرار دے دیا جائے تو تقریباً ہر ریجن میں اب یونیورسٹی موجود ہو گی۔ اب ضرورت اس بات کی ہو گی کہ یہ یونیورسٹیاں قرب و جوار کے علاقوں میں اپنے سب کیمپس قائم کریں۔ بڑے کالجز کو ختم کر کے انہیں یونیورسٹی کا سب کیمپس بنا دیا جائے۔ یوں بنا کسی اضافی اخراجات کے مقامی آبادی کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھل جائیں گے۔ 


4۔ کالجز کا کردار ختم ہونے کے بعد ہائر سیکنڈری سکولز، بی آر سیز اور کیڈٹ کالجز بارھویں تک تعلیم دیں گے۔ اس کے بعد بی ایس، ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی تعلیم یونیورسٹی میں ہو گی۔ یوں تعلیمی نظام ایک smooth شکل اختیار کر لے گا۔


 یہ ایک خواب ہے... مگر ہر واقعہ تعبیر کی عملی شکل سے پہلے کہیں نہ کہیں کسی تخیل کا حصہ ہوتا ہے۔ سو، ہم نے ایک خواب دیکھا ہے، کبھی اس کی تعبیر بھی ہو گی۔ 


"بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے..."

Previous Post Next Post