BSEC OFFICIAL WEBSITE

بلوچ اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل کمیٹی کا قیام 2018 میں عمل میں لایا گیا۔


بلوچ اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل کمیٹی کا قیام 12-9-2018میں عمل میں لائی گئی- بی سیک اپنی قیام سے لیکر آج تک بلوچستان بھر میں طلباءکمیٹی کی تور پر اپنی سرگرمیاں سرانجام دے رہی ہیں۔



تنظیم سادہ الفاظ میں افراد کا کسی خاص مقصد اور مفادات کے گرد جڈت ہوتا ہے ۔ اپنے مقصد اور  مفاد کےگردتنظیم کی مختلف صورتیں ابھرتی ہیں- اور مقصد کے حصول کے لیے عمل کرنا سیاسی زبان میں حکمت
 عملی کہا جاسکتا ہے بھی ترتیب پاتی ہے۔ مقصد کے تعین اور حکمت عملی کی ترتیب کے ساتھ   تنظیم اپنے
 اندرایک ثقافت بھی پروان چڑھاتی ہے جو ہمہ وقت اس کے ممبران اور سماج پر  اثر انداز ہوتی ہے۔ بقول
 ٹراسکی تنظیم سب سے پہلے ایک نظریہ، پھر حکمت عملی اور اس کے بعد طریقہ کار ہوتی ہے۔ِ 

تنظیم کیڈر کی صورت میں ہروقت زمین پر موجود رہتی ہے۔ تنظیمی کیڈر نہ صرف رہنما ہوتا ہے جو عوامی رائے اور خواہش کو ایک بیانیہ دیتا ہے۔ بلکہ وہ ایک سائنس دان بھی ہوتا ہے جو آج اور کل پھر گہری نظر رکھتے ہوئے مستقبل کا تناظر بھی بناتا ہے ۔ اس لیے اسے ایک ہی وقت میں سماج کے ساتھ بھی ہو نا ہوتا ہے اور سماج سے ایک قدم آگے   بھی ،اسی جدلیات کے گرد  انقلاب کا عمل تشکیل پاتا ہے، جو بذات خود ایک طویل پریکٹس کا ماضی ہوتا ہے ۔ کیڈر سیاسی جدلیات کی عملی شکل ہوتا ہے اسےہر وقت بلا خوف و خطر ہونا ہے ۔  وہ جرات مندانہ فیصلے لے کر آگے بڑھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو اور اتنی ہی جرات کے ساتھ پیچھے جانے کا مشکل فیصلہ بھی لے سکتا ہو، وہ اتنا حساس ہو کہ ۔ہر معمولی نا انصافی اس کی روح کو چھلی کر دے مگر اتنا ہی سفاک بھی کہ بڑے سے بڑا حادثہ بھی اس کے فیصلوں پر اثرانداز نہ ہو سکے اس کا معنی و مطالب ایک کامیاب انقلاب ہے جو تمام جذبات سے آگے ہے ۔ راستہ حقیقت کا تجزیہ جہاں ذاتی اناسی گروہی مفادات کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔

مان قائم رکھنا ، انتہا کو جا نامگر واپس بھی لوٹ آنا غلطی کرنا مگر اسے تسلیم کرنے کا ظرف اور جرات کا ہونا ایک حقیقی انقلابی کی نشانی ہے ۔ یہ بات ہر وقت یاد رکھنی چاہیے کہ ایک انقلابی فقط جذ باتی نارا نہیں مارتا بلکہ وہ ایک سنجیدہ سائنسدان ہوتا ہے جو اپنی انا سے آگے بڑھ کر نظام کی تبدیلی کے حقیقی جدو جہد میں ملوث ہوتا ہے۔ اور اس جدو جہد کا دارومدار اس کی خواہش پر نہیں ہوتا بلکہ زندہ سماج کی متحرک قوتوں پر ہوتا ہے جو اپنے طرز پر عمل کرتی ہیں ۔اور اس وجہ سے انقلابی کیڈرکو ان زندہ متحرک عوامل کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے جہاں کامیابی اور شکست متوازی ممکنات میں  ہیں ۔

ہم تیسری دنیا کے لوگ فقط جذباتی نعروں پر خوش ہو جاتے ہیں، بے شک بڑی باتیں اور نعرے وقتی جز بے کا باعث ہوتی ہیں لیکن مطمئن کرنے والی کامیابی کا ضامن ہرگز نہیں ۔ دیر پا جد و جہد مشکل کام کی متقاضی ہوتی ہے جو عام عوام تک دلیل کی کٹھن  پر کشا لاتا ہے، عام عوام کو یہ باور کروانا کہ یہاں صرف تقریر میں سننا اور تقریر  کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ انہیں حقیقت کو سمجھنے کے تکلیف دو امر سے گزرنا ہوگا ۔ انہیں بھیٹر بکریوں کی طرح پیچھے چلنے کی بجائے خودآگے بڑھنے کی جرات کرنی ہوگی ۔ لیڈر دغا دے سکتا ہے، سامراجی یلغارتحریک کو کمزور کرسکتی ہے، اندرونی رسی اور انا پرستی دھڑا بندی اورتقسیم کا باعث بن سکتی ہے، یہ تاریخی حقیقتیں ہیں جن سے آنکھیں چرانا انقلابی کیڈر اور عوام کے لیے ممکن نہیں اور اس بات کو سمجھنا دونوں کے لیے برابر کی اہمیت رکھتا ہے ۔ انقلابی کیڈر اور عوام کا جدلیات کل کسی بھی ممکنہ ناکامی کی صورت میں ایک دوسرے پر الزام لگانے لگتے ہیں، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ رہنماؤں کا کردار اہم ہے اور ناکامی کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے لیکن عوام اگر سب کچھ رہنماؤں کی جھولی میں ڈال دے تو ناکامی کا برابر ذمہ دار وہ بھی ہے ۔ 

اس سے بیشتر انقلابی تنظیم کی ذمہ داریاں آتی ہیں جو ہروقت عوام کی تعلیم اور شعوری تربیت کا ذمہ دار ہے۔ تعلیم سے  مراد شعور وہ فکر جو قوم اور سماج کو تبدیلی کی طرف راگب کرے ۔ یعنی سیاسی شعور دینا، تاریخ سے لے کر آج کے حالات تک انہیں آگاہ کرنا لازمی ہے۔ انہیں تنظیمی کمزوریوں اور ناکامیوں کو بتانا لازمی ہے ۔ تا کہ وہ ہر وقت تنظیمی کارگردگی پر نظر رکھیں اور اس پر مسلسل تنقید کرتے رہیں ۔ اور مزید اہم کام یہ ہے کہ  تنظیم عوام کو اس بات کا علم اور جان کاری دیتی رہے ا کہ ایک عام شخص کا کردار کتنا ہی اہم ہے، یہ ضروری ہے کہ عوام کو اپنے شعوری کردار کا علم ہو وہ اپنی قد کافی سے واقف ہوں اور ہر عام  وہ خاص شخص کو اس کا کردار ۔
سمجھائے، اور یہ تحر یک زائل بھی ہوسکتی ہے ۔اور اسے رہنما  کی  بیج  بھی کہ سکتے ہیں۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل کمیٹی کی قیام کا مقصد بلوچ علاقوں کی تعلیمی اداروں میں بلوچ طلباء کی سیاسی تربیت اور ان کو ایک منظم سیاسی پلیٹ فارم فراہم کیا جاسکے۔جس سے وہ اپنی جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد کر سکے۔نو جواں نسل کی  فکری اور شعوری تربیت کر سکے۔کسی بھی قوم کی ترقی کا راز شعوری فکری اور سیاسی حوالے سے اپنی نوجواں نسل میں ہے۔ کیونکہ یہیں وہ نسل ہوتی ہیں جو قوم کی مستقبل کا ضامن  ہوتے ہیں۔ نوجون نسل کی تربیت کے اہم مہورے اسکول،کالجزاور جامعات جسے علمی ادارے ہوتے ہیں۔علم و عمل کے روشنی سے مستفید ہو کر ملک و قوم کے لئے نئی راہی متعین کرتی ہیں۔تعلیمی اداروں میں طلباء کی تربیت کے لئے علمی  پروگرام اور پر امن ماحول کا قیام نہایت ضروری امر بن جاتاہے تنظیم تعلیمی  اداروں میں شعوری اور فکری  تربیت کرتی ہیں۔انھی شعوری اور فکری ضروریات کو مد نظر رکھتے ہو بلوچ اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل کمیٹی کی قیام عمل میں لائی گئی۔  
 

منشور
۔ مفت اور معیاری تعلیم اور دیگر انسانی بنیادی ضرورات زندگی کے حصول کی جد و جہد کرنا ۔
۔ تعلیمی اداروں میں نصاب کو سائینسی اور منظم ٹیکنالوجی پر میر کرنا ۔ 
۔ نصابی تعلیم کے ساتھ مادری زبانون کی فراہمی اور دیگر زبانوں کا احترام کرنا ۔ 
۔ پاکستان کی دیگرتر کی پسند طلباء کمیٹیوں اور تنظیموں کے ساتھ فکری تعاون اور یونین سازی کی بحالی کیلئے جدو جہد کرنا ۔
 ۔ بلوچ کلچر ،ثقافت ، بلوچی براہوی زبان کوفروغ دینا ۔ 
 ۔ بلوچستان کے کم دست اور کمزور طلباء کی رہنمائی اندرونی اور بیرونی ممالک میں اسکالرشت تعلیمی اداروں میں داخلے کی فراہمی کے لیے جدو جہد کرنا۔ 
 ۔بلوچستان کےتمام اضلع میں  ڈیجیٹل ریزیڈینشل لائبریری کی قیام کا جدوجہدکرنا۔
۔  بلوچ طلباء تعلیم کے حصول کیلے متحد کرنا۔