BSEC OFFICIAL WEBSITE

بی سیک اپنے قیام 2018سے لیکر آج تک بلوچستان بھر میں طلباء کمیٹی کے تو ر پر اپنی سرگرمیاں سرانجام دے رہی ہیں

بلوچ اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل کمیٹی کا قیام 2018 میں عمل میں لایا گیا۔ بی سیک اپنے قیام سے لیکر آج تک بلوچستان بھر میں طلباء کمیٹی کے تو ر پر اپنی سرگرمیاں سرانجام دے رہی ہیں
تنظیم سادہ الفاظ میں افراد کا کسی خاص مقصد اور مفادات کے گرد جڈت ہوتا ہے ۔ اپنے مقصد اور  مفاد کے گردتنظیم کی مختلف صورتیں ابھرتی ہیں اور مقصد کے حصول کے لیے عمل کرنا جسے سیاسی زبان میں حکمت عملی کیا جاسکتا ہے بھی ترتیب پاتی ہے۔ مقصد کے تعین اور حکمت عملی کی ترتیب کے ساتھ تعظیم اپنے اندرایک ثقافت بھی پروان چڑھاتی ہے جو ہمہ وقت اس کے ممبران اور سماج پر بالعموم اثر انداز ہوتی ہے۔ بقول ٹراسکی تنظیم سب سے پہلے ایک نظریہ، پھر حکمت عملی اور اس کے بعد طریقہ کار ہوتی ہے۔ 

تنظیم کیڈر کی صورت میں ہمہ وقت زمین پر موجود رہتی ہے۔ تنظیمی کیڈر نہ صرف رہنما ہوتا ہے جو عوامی رائے اور خواہش کو ایک بیانیہ دیتا ہے بلکہ وہ ایک سائنس دان بھی ہوتا ہے جو آج اور کل گہری نظر رکھتے ہوئے مستقبل کا تناظر بھی بناتا ہے ۔ اس لیے اسے ایک ہی وقت میں سماج کے ساتھ بھی ہو نا ہوتا ہے اور سماج سے ایک قدم آپکے بھی ،اسی جدلیات کے گرد کامیاب انقلاب کا عمل تشکیل پاتا ہے، جو بذات خود ایک طویل پریکٹس کا ماضی ہوتا ہے ۔ کیڈر سیاسی جدلیات کی عملی شکل ہوتا ہے اسے ہمہ وقت بلا خوف و خطر ہونا ہے اور محتاط بھی ، وہ جرات مندانہ فیصلے لے کر آگے بڑھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو اور اتنی ہی جرات کے ساتھ پیچھے مٹنے کا مشکل فیصلہ بھی لے سکتا ہو، وہ اتنا حساس ہو کہ ہر معمولی نا انصافی اس کی روح کو چھلنی کر دے مگر اتنا ہی سفاک بھی کہ بڑے سے بڑا حارثہ بھی اس کے فیصلوں پر اثرانداز نہ ہو سکے اس کا معنی و مطالب ایک کامیاب انقلاب ہے جو تمام جذبات سے آگے ہے اور راستہ حقیقت کا تجزیہ جہان ذاتی اناسی گروہی مفادات کوئ حیثیت نہیں رکھتا ۔

مان قائم رکھنا ، انتہا کو جا نامگر واپس بھی لوٹ آنا غلطی کرنا مگر اسے تسلیم کرنے کا ظرف اور جرات کا ہونا ایک حقیقی انقلابی کی نشانی ہے ۔ یہ بات ہمہ وقت یاد رکھنی چاہیے کہ ایک انقلابی فقط جذ باتی بڑ نہیں مارتا بلکہ وہ ایک سنجیدہ سائنسدان ہوتا ہے جو اپنی انا سے آگے بڑھ کر نظام کی تبدیلی کے حقیقی جدو جہد میں ملوث ہوتا ہے اور اس جدو جہد کا دارومدار اس کی خواہش پر نہیں ہوتا بلکہ زندہ سماج کی متحرک قوتوں پر ہوتا ہے جو اپنے طرز پر عمل کرتی ہیں اور اس وجہ سے انقلابی کیڈرکو ان زندہ متحرک عوامل کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے جہاں کامیابی اور شکست متوازی ممکنات میں سے ہیں ۔

ہم تیسری دنیا کے لوگ فقط جذباتی نعروں پر خوش ہو جاتے ہیں، بے شک بڑی باتیں اور نعرے وقتی جز بے کا باعث ہوتی ہیں لیکن مطمئن کرنے والی کامیابی کا ضامن ہرگز نہیں ۔ دیر پا جد و جہد مشکل کام کی متقاضی ہوتی ہے جو عام عوام تک دلیل کی کٹھن  پر کشا لاتا ہے، عام عوام کو یہ باور کروانا کہ یہاں صرف تقریر میں سننا اور تقریر میں کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ انہیں حقیقت کو سمجھنے کے تکلیف دو امر سے گزرنا ہوگا ، انہیں بھیٹر بکریوں کی طرح پیچھے چلنے کی بجائے خودآگے بڑھنے کی جرات کرنی ہوگی ۔ لیڈر دغا دے سکتا ہے، سامراجی یلغارتحریک کو کمزور کرسکتی ہے، اندرونی رسی اور انا پرستی دھڑا بندی اورتقسیم کا باعث بن سکتی ہے، یہ تاریخی حقیقتیں ہیں جن سے آنکھیں چرانا انقلابی کیڈر اور عوام کے لیے ممکن نہیں اور اس بات کو سمجھنا دونوں کے لیے برابر کی اہمیت رکھتا ہے ۔ انقلابی کیڈر اور عوام کا جدلیات کل کسی بھی ممکنہ ناکامی کی صورت میں ایک دوسرے پر الزام لگانے لگتے ہیں، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ رہنماؤں کا کردار اہم ہے اور ناکامی کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے لیکن عوام اگر سب کچھ رہنماؤں کی جھولی میں ڈال دے تو ناکامی کا برابر ذمہ دار وہ بھی ہے ۔ 

اس سے بیشتر انقلابی تنظیم کی ذمہ داریاں آتی ہیں جو ہمہ وقت عوام کی تعلیم اور شعوری تربیت کا ذمہ دار ہے تعلیم سے میری مراد شعور وہ فکری جو قوم اور سماج کو تبدیلی کی طرف راگب کرےہے ۔ یعنی سیاسی شعور دینا، تاریخ سے لے کر آج کے حالات تک انہیں آگاہ کرنا لازمی ہے انہیں تنظیمی کمزوریوں اور ناکامیوں کو بتانا لازمی ہے ۔ تا کہ وہ ہمہ وقت تنظیمی کارگردگی پر نظر رکھیں اور اس پر مسلسل تنقید کرتے رہیں ۔ اور مزید اہم کام یہ ہے کہ  تنظیم عوام کو اس بات کا علم اور جان کاری دیتی رہے ا کہ ایک عام شخص کا کردار کتنا ہی اہم ہے، یہ ضروری ہے کہ عوام کو اپنے شعوری کردار کا علم ہو وہ اپنی قد کافی سے واقف ہوں اور ہر عام خاص شخص کو اس کا کردار سمجھائے، اور یہ تحر یک زائل بھی ہوسکتی ہے اور اسے رہنما بیچ بھی کہ سکتے ہیں

۔ بلوچ اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل کمیٹی کے کیام کا مقصد  بلوچ علاقوں کے تعلیمی اداروں میں  بلوچ طلباء کی سیاسی تربیت اور ان کو ایک منظم سیاسی پلیٹ فارم فرام کیا جاسکے۔ جس وہ اپنی جمہوری حقوق کے لیے جد و جہد اور نو جواں نسل کی تعلیمی سیاسی فکری اور شعوری تربیت کر سکے۔ کسی بھی قوم کی ترکی کا راز شعوری فکری اور سیاسی حوالے سے پنی نو جوان نسل میں ہے۔ کیونکہ یہیں وہ نسل ہوتی ہیں جو اقوام کے مستقبل کا ضامن ہوتے ہیں ۔ نو جوان نسل کی تربیت کا اہم مورعلمی ادارے ہوتے ہیں ۔ جہاں علم وعمل کے روشنی سے مستفید ہو کر ملک وقوم کے لیے نئی راہیں متعین کرتی ہیں تعلیمی اداروں میں طلباء کی تربیت کے لیے علمی سیاسی ارو پر امن ماحول کا قیام نہایت ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلباء کمیٹیوں اورتنظیموں کا قیام نہایت ضروری امر بن جا تا ہے جوتعلیمی اداروں میں تعلیمی شعوری فکری اور سیاسی تربیت کرتے ہیں ۔ انھی سیاسی و پیلمی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہو بلو چ اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل کمیٹی کا قیا عمل میں لایا گیا


منشور
ا۔ مفت اور معیاری تعلیم اور دیگر انسانی بنیادی ضرورات زندگی کے حصول کی جد و جہد کرنا ۔ ۲۔ تعلیمی اداروں میں نصاب کو سائینسی اور منظم ٹیکنالوجی پر میر کرنا ۔ ۳۔ نصابی تعلیم کے ساتھ مادری زبانون کی فراہمی اور دیگر زبانوں کا احترام کرنا ۔ ۴۔ پاکستان کی دیگرتر کی پسند طلباء کمیٹیوں اور تنظیموں کے ساتھ فکری تعاون اور یونین سازی کی بحالی کیلئے جدو جہد کرنا ۔ ۵۔ بلوچ کلچر ،ثقافت ، بلوچی براہوی زبان کوفروغ دینا ۔ ۲ ۔ بلوچستان کے کم دست اور کمزور طلباء کی رہنمائی اندرونی اور بیرونی ممالک میں اسکالرشت تعلیمی اداروں میں داخلے کی فراہمی کے لیے جدو جہد کرنا ۔ سے بلوچ طلباء تعلیم کے حصول کیلے متحد کرنا۔ 

Previous Post Next Post