تعلیم زندگی کو صحیح طریقے سے گزار نے کا ہنر بخشتی ہے اور ہمیں زندگی کی چھوٹی اور بڑی پر یشانیوں کا سامنا کر نا سکھاتی ہے۔ معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے تعلیم کی سخت ضرورت ہے ، اور اتنے بڑے درجے پر آگاہ کرنے کے بعد بھی ملک کے سبھی حضوں میں تعلیم ایک جیسی نہیں ہے۔
تعلیم اور معاشرہ
د نیا کی کامیاب اقوام کی پشت پر تعلیم کا عمل ہی پوشیدہ رہا ہے۔ جو لوگ معاشرے میں تعلیم حاصل کرتے ہیں چاہے وہ دینی ہو یا دنیاوی اس انسان کا اپنے معاشرے کے اند ر اور اپنے گھر میں ایک الگ ہی مقام ہوتا ہے۔ تعلیم معاشرے میں سدھار پیدا کر تی ہے اور انسانیت کو شعور سے نوازتی ہے۔ معاشرے میں پلتی برائی جیسے جھوٹ، گالم گلوچ ، چوری، ڈکیتی کو ختم کرنے میں تعلیم اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم نہ صرف انسانیت کا پیٹ پالنے میں اہم کر دار ادا کرتی بلکہ یہ انسانیت اور
معاشرے کو تشکیل دینے میں بھی پیش پیش رہتی ہے۔
ہماری بقا تعلیم
تعلیم اسکول ، کالج، یونیورسٹی سے ملنے والی ڈگری کا نام نہیں بلکہ یہ تمیز اور تہذیب کا دوسرا نام ہے۔ ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم تہذیب و تمیز یعنی تعلیم کو عام کریں کیوں کہ آج کل تعلیم کے نام پر بنائی جانے والی ریاست اور نجی ادارے تعلیم کو فروغ دینے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں کیونکہ ان کے ستون بس نوکری حاصل کرنے کی شرط پر تعمیر کر دیئے گئے ہیں۔اس سے پہلے کہ ہم دنیا کی جاہل اقوام میں سر فہرست ہو جائیں ، ہمیں تعلیم کی بقالینی خود کی بقا کے لئے خود سے محنت کرنی ہو گی۔
