BSEC OFFICIAL WEBSITE

علم کے چراغ روشنی کوکون روک سکتا ہے؟

Www۔bsec.blogspot.com

 زندگی براۓ شعور ، روشنی ،آ گا ہی علم اور دانش لیکن روشنی کس طرح ؟ ان لوگوں کیلئے یہ ایک ایسی بات ہے جوزندگی کی صداقتوں سے ہم آہنگی پانے میں کا میاب رہتے ہیں ۔ منزل تک رسائی حاصل کر نے کے لئے آدی کو ٹھن اور دشوار گزار راستوں کی اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے، جہاں قدم قدم پر کانٹوں کی یج بھی ہوئی ہے، ان تکلیف گزار راستوں سے بے خبر ولاعلم نہیں رہا جا سکتا ،اگر کسی میں برداشت کی قوت نہ ہو اور اس میں تکلیف و مشکلات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ یقینا     مایوسی کی تاریکیوں میں کھو جاۓ 

اور مشکل ہے کہ وہ پھر کبھی ابھر سکے، آج ہم ۔ خواب کی دنیا کے باسی نہیں ہیں، ہمارے ؟ ابھرتے ہوۓ معاشرے کی سرگرمیاں ہمیں ا اجازت نہیں دیتیں کہ ہم اپنی آنکھیں موندھ لیں، اور ہزاروں برسوں کی سرگرمیوں اور تغیرات سے خود کو لاعلم رکھیں ۔ یہ سرگرمیاں اور ؟ تغیرات ہمیں اس بات سے بخوبی آگاہ کرتی ہے ہیں کہ صرف لفاظی ، کھانے اور سونے سے کام نہیں بنیں گے، بلکہ اس سے آدمی تاریکیوں کے انتہائی قریب پہنچا ہے ۔

روشن نگا میں دیکھتی ہیں کہ انسانی ہاتھوں نے لو ہے کو  پگھلا یا اور پھر جوڑ کر اپنی مختلف ضرورت کے تحت استعمال میں لاکرا پنا تابعدار بنایا۔ انسان نے عقل سے کام لیتے ہوئے دنیا کی حدوں سے پرے چاند اور ستاروں پر کمند میں ڈالیں ، انسانی ایجادات نے پوری دنیا کوقریب سے قریب تر کردیا۔ آج دنیا کے ایک کونے میں بیٹھے ہو ۓ  دوسرے کونے میں بیٹھے ہوۓ شخص کی کانوں تک پہنچ سکتی ہے ۔ انسان نے اپنی فہم ودائش کے بل بوتے پر جہالت و جبر کے قلعوں کور وندا اور آخر کا رتار یکی کے پاؤں اکھڑ نے لگے ۔ روشنی تاریکی کولکار رہی ہے، اور تاریکی دن بہ دن خود کو محند ور دائروں میں مقید کر رہی ہے۔ انسان نے جنتر منتر سے یہ کام نہیں کیا ہے، اور نہ ہی فرشتوں نے ان کیلئے راستے واکئے ،حقیقتاً اس جنگ میں انسان نے علم ودانش کے اسلحہ کو استعمال کیا جو اس کی ہروقت کی جد و جہد کے عوض میں اس کے ہر فیصلے کے آگے ڈھال بن کر اس کی محافظ بنی ہے ۔ کوئی شخص دن اور رات کے تفاوت کو سمجھ سکتا ہے وہ ضرور 

اس بات کو محسوس کرتا ہے

اور مانتا ہے ۔ یہ بھی سچ ہے کہ آج بھی دنیا کا ایک بڑا حصہ تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے، کیونکہ ظالم اور زردارکوا پنی بدکاریوں کی پردہ پوشی کی خاطر جہالت و تاریکی کی ضرورت ہے، کیونکہ دن کی روشنی میں ان کے بدنما چہروں اور خونخوار دانتوں کو کسی میں گاڑنے کے خواب شرمند تعبیر نہیں ہوں گے، کیونکہ

دن آ گے بڑھتے جاتے ہیں پیچھے نہیں۔ غلطی کہاں پر ہے خوشحال زندگی کی تمنا ہرکسی کی چاہ ہے لیکن موندھی ہوئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی کہ خوشحالی اگر ہزاروں میں سے صرف ایک مخصوص شخص یا چند خصوص اشخاص کیلئے ہو نہیں پہنچتی ، وہی خوشحالی امر رہتی ہے جو سب کیلئے ہو حقیقی خوشحال زندگی کیلئے ہماری نئی نسل کی خواہشات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں حقیقی خوشحالی کے حصول کی خاطر انہوں نے اپنی سنہری خواہشات کا گلا گھونٹا ہے۔ ہزار آفرین کے مستحق ہیں ی نوجوان لیکن اس خواہش وتمنا کی منزل مقصود تک پہنچنے کیلئے ضروری ہے کہ اس بات پر غور کیا جاۓ کہ غلطی کہاں پر ہے، اور بات کہاں سے اوجھل پیسہم ہوگئی ہے ۔

  ہم دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ دنیا میں ترقی وارتقاء کیلئے دانشمندی پہلی اور بنیادی ضرورت ہے ، ہم دنیا سے الگ ایک دنیانہیں بلکہ دنیا کی ضرورتیں ہماری ضرورتیں ہیں ، اور اس طرح دنیا کے طور طریقے بھی، پھر ہمیں دانشمندی اور جانکاری کی اتنی ہی ضرورت ہے بتنی کہ دنیا کو ۔ 

Previous Post Next Post