میر یوسف عزیز مگسی کو ماڈرن بلوچ نیشنلزم کا بانی سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مختلف قبائل پر مشتمل بلوچ قوم کو متحد کرنے کیلئے پہلی بار ایک سیاسی جماعت کا آغاز کیا جسے انجمن اتحاد بلوچاں کہتے ہیں میر یوسف عزیز مگسی 1908ءمیں مگسی قبیلے کے سردار نواب قیصر خان مگسی کے گھر پیدا ہوئے انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز 5برس کی عمر میں کیااور جلد ہی عربی ، فارسی ، اردو اور انگریزی پر عبور حاصل کر لیا تھا ان کی روشن خیالی اور ذہن سازی میں کلیدی کردار ان کے ایک استاد کنیا لال نے ادا کیا 1920ءکی دہائی وہ دور تھا جب بلوچستان سیاسی پسماندگی کے حوالے سے اپنے تاریک ترین دور سے گزر رہا تھا انگریزوں نے بلوچستان کے سیاسی نظام کو بری طرح سے بگاڑ دیا تھا بلوچستان کی صورتحال کسی بدترین نو آباد کار علاقے جیسی ہو گئی تھی حالانکہ ماضی میں بلوچستان کی سیاسی حیثیت کو عالمی سطح پر سلطنت عثمانیہ جیسی طاقت اور احمد شاہ ابدالی جیسا بادشاہ بھی تسلیم کر چکا تھا برطانیہ نے 1839ءمیں میر محراب خان کو شکست دے کر بلوچستان میں اپنے پنجے گاڑ لئے تھے لیکن مقامی مزاحمت اور اپنے علاقائی مفادات کی وجہ سے برطانیہ نے بلوچستان کی آزاد حیثیت 1854ءاور 1876ءکے معاہدوں کے تحت تسلیم کیا تھا اور تحریری طور پر اس کی تصدیق کی تھی کہ ریاست قلات کی حیثیت دیگر ہندوستانی ریاستوں سے مختلف ہے اور ہم اسے آزاد ریاست تسلیم کرتے ہیں لیکن 1876ءمیں چند بلوچ سرداروں کی مدد سے برطانیہ نے خان قلات کی طاقت کو محدود کر دیا تھا اور برطانیہ نے بلوچستان کو دیگر ہندوستانی ریاستوں کے طرز پر چلانا شروع کر دیا تھا انہوں نے اپنے نمائندوں کے ذریعے حکومت کی بھاگ دوڑ اپنے ہاتھ لے لی تھی خان کی حیثیت ایک نام نہاد حکمران جیسی ہو گئی تھی اور ریاست کا سارا نظام برطانوی منتخب وزیراعظم شمشاہ جن کا تعلق پنجاب کے علاقے گجرات سے تھا ان کے ہاتھ چلا گیا تھا عام لوگوں کو رائے حق خود ارادیت کا حق حاصل نہےںتھا
31مئی1935ءمیں کوئٹہ مےں آنے والے زلزلے میں اس دنیا سے رحلت کر گئے ان کے بعد ان کے ہم خیال ساتھیوں اور شاگردوں نے ان کی سیاسی جدوجہد کو قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے جاری رکھا اس منظم سیاسی جماعت نے آنے والے دور میں بلوچستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا اور کئی نامور سیاسی ورکرز پیدا کئے
