BSEC OFFICIAL WEBSITE

تنظیمی تشہیر BALOCH STUDENTS EDUCATIONAL COMMITTEE

 کسی بھی سماجی، فکری یا کہ نظریاتی منظم گروہ کا ٰیکجا ہو کر کسی خاص “مقصد” کی تکمیل کے لیے جد وجہد کرنا تنظیم کہلاتی ہے۔بعض محققین اور فلاسفرز کے مطابق انسانی ارتقا سے لیکر آج تک فرد خود اپنے وجود میں کچھ بھی نہیں ہے جبکہ معاشرہ، سماج یا اجتماع ہی حقیقت میں وجود رکھتی ہیں اور اجتماع کے بغیر فرد کا وجود ناممکن ہے لہذا لفظ سماج یا اجتماع خود ایک گروہ کا ہی نام ہے جسے اگر تنظیمی بنیادوں پر پرکھا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ تنظیموں کے تاریخی پہلو پر نظر دوڑائی جائے تو تنظیمیں ازل سے قبائلی،سیاسی،معاشی،شاہی،مذہبی اور قومی بنیادوں پر وجود رکھتی رہی ہیں۔ جیسا کہ مذکورہ بالا سطور میں ذکر کیا گیا ہے کہ تنظیموں کی تشکیل کا بنیادی محرک مخصوص” مقصد” کی تکمیل کے لیے جدوجہد ہوتی ہے لہذا تنظیموں اور اُن کے ارکان کیلیے تنظیم کے بجائے وہ مقصد مقدس بن جاتی ہے جس کیلیے جدوجہد جاری ہوتی ہے کیونکہ تنظیمیں اور اُن کی پالیسیوں کا معروضی حقائق کی بنیادوں پر تبدیلی کا عنصر ہمیشہ سے وجود رکھتا رہاہے جبکہ “مقصد” اٹل ہی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی تحریک میں بطور اساس کے متحرک تنظیم کیلیے “مقصد” مقدس بن جاتی ہے۔تنظیمیں ہمیشہ منظم اور Hierarichal بنیادوں پر کام کرتی ہیں اورتنظیموں میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور طاقت کو بڑے سے چھوٹے لیول تک منتقلی کیلیے تنظیم کے اندر مختلف اداروں اور کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں جو تنظیمی معاملات کو احسن طریقے سے سرانجام پہنچانے کا مجاز ہوتے ہیں۔تنظیمی Hierarchy میں سب سے بالاادارے کے اراکین کو تنظیمی رہنما یا کہ تنظیمی ترجمان گردانا جاتا ہے جسے عام تلفظ میں تنظیمی لیڈرشپ بھی کہتے ہیں۔تنظیمی لیڈرشپ کی جانب سے اراکین کی آراء اور معروضی حالات کو ذہن نشین رکھ کر متفقہ رائے دہی سے تنظیمی پالیسیاں ترتیب دی جاتی ہیں اور تمام کارکن اُن پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کا مجاز ہوتے ہیں۔ کارکن کسی بھی تنظیم کے بنیادی اکائی کے حیثیت سے جانے جاتے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ تنظیموں کی ترویج اور ترقی میں کارکنوں کا کردار نہایت ہی اہم رہا ہے۔

کسی بھی تنظیم،اُس کے اراکین اور رہنماؤں کیلیے بعد از مقصد سب سے مقدس چیز تنظیم اور اُس کی پالیسیاں ہوتی ہیں۔ تحریکوں میں تنظیمیں آلے اور ہتھیار کا کردار سر انجام دیتی ہیں جو ہم فکر اور با صلاحیت افراد کو ایک گروہ میں پرو کر جدو جہد اور تحریک کو مزید توانائی بخشتی ہیں۔انھی خصوصیات اور افادیت کے پیش نظر تمام تحریکوں کے سرکردہ رہنماؤں اور تحریکی Intelligensia کے اولین ترجیحات میں منظم اور سائنسی بنیادوں پر نظریاتی اور فکری تنظیموں کی تشکیل رہی ہے کیونکہ یہیں وہ تنظیمیں ہوتی ہیں جو منزل اور مقصد کا تعین کرکے جدوجہد کو سمت فراہم کرتی ہیں۔کسی بھی تحریک اور جدوجہد کیلیے بیک وقت ایک سے زائد تنظیمیں کام کرسکتی ہیں جن میں مقصد کے حصول کیلیے لائحہ عمل میں اختلاف جبکہ مقصد ایک ہوتا ہے۔لہذا کسی بھی مقصد کے حصول اور دیر پا جدوجہد کیلیے تنظیموں کی تشکیل لازمی امر بن جاتا ہے اور بغیر کسی تنظیم یا تنظیمی ڈھانچے کے مخصوص مقصد کیلیے افراد کی جدوجہد “بے مہار گھوڑے کی سواری”جیسی مصداق کے مترادف ہے۔چنانچہ انقلابی تنظیموں کا بنیادی محور اُس کی عوام ہوتی ہے کیونکہ عوام ہی وہ خواص ہے جہاں سے تنظیمیں رُدوم لیتی ہیں۔ اسی سلسلے میں عوامی حمایت کسی بھی  تنظیم کیلیے اشد ضروری ہوتا ہے اور عوامی حمایت کے بغیر  تنظیمیں تحریکوں میں متحرک کردار کے بجائے ساکن حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ عوامی حمایت حاصل کرنے کیلیے تنظیمی تشہیر موثر کردار ادا کرتی ہے جس کیلیے تنظیمیں تشہیری پالیسیاں ترتیب دیتی ہیں اور اُن پر عمل پیرا ہو کر عوامی حمایت کے حصول کیلیے جدوجہد کرتی ہیں۔


Previous Post Next Post