بلوچ اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل کمیٹی کے مرکزی سیکٹری جنرل نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہ سیاست ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو اُس کے فردی وجود سے مبرا کر کے ایک ایسے اجتماعی عمل کا حصہ بناتی ہے جس کے ساتھ قائم شدہ رشتہ شعوری اور فکری بنیادوں پر قائم ہوتی ہو۔ دنیا کی تاریخ اور ارتقا پر اگر طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ فرد کا وجود کسی بھی دور میں نہیں رہا ہے اور نہ ہی فردی مفادات وجود رکھتی ہیں۔ ایک ایسے دور میں جہاں اجتماع کے بغیر فرد کا وجود ممکن نہ ہو وہیں اجتماعی مفادات کےلیے جدوجہد ایک لازمی امر بن جاتا ہے۔ اجتماعی جدوجہد کے تمام پہلووں کو اگر یکجا کرکے اُن میں شعوری اور فکری عنصر کو شامل کیا جائے تو ایسے تمام اعمال سیاسی عمل کے زمرے میں آتے ہیں۔ سیاسی عمل انسان کو ذہنی وسعت میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے زندگی کے تمام پہلووں کو ایک نئے زاویے سے پرکھنے میں مدد دیتی ہے۔عالمی سیاست سے لیکر علاقائی سیاست تک کے تمام عمل کی انسانی زندگی پر گہرے اثرات ہیں لہذا ایک فرد سیاست سے خواہ کتنا ہی کنارہ کشی کی کوشش کرے سیاسی عمل کے ممکنہ آثار سے کنارہ اختیار نہیں کر سکتا۔
انھوں نے کہا بلوچ طلبا سیاست میں نئے رجحانات سیاسی عمل میں جمود اور سیاسی کارکنان کی تربیت کے راہ میں حائل ہو چکے ہیں۔ جہاں ایک طرف غیر سیاسی رویوں کے باعث اداروں کی حیثیت ماند پڑتی جا رہی ہے تو وہیں دوسری جانب آئے روز تقسیم در تقسیم جیسے رجحانات کو ایک بار پھر پروان چڑھایا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ سماجی رابط کے مختلف طریقہ کار جہاں انسانی زندگی کو سہل ترین اور سیاست میں انقلابی تبدیلیوں کا موجب بنے ہیں تو وہیں انھی طریقہ کار نے بلوچ طلبا سیاست کو ایک الگ شکل دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ سوشل میڈیا کے بڑھتے رجحانات کے باعث تنظیم اور تنظیمی تشہیر کے بجائے ذاتی تشہیرجیسے رویوں نے جنم لیا ہے جس کے باعث آئے روز تنظیموں میں دھڑا بندی ، گروہ بندی اور انتشار جیسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ فکری ، سیاسی اور شعوری حوالے سے مضبوط سیاسی کارکنوں کےلیے مقصد سب سے بالا چیز ہوتی ہے اور یہیں وجہ ہے کہ ایسے تمام ارکان جن کی نظریں مقصد پر مرکوز ہوتی وہ مقصد کےلیے جدوجہد کرنے والے اداروں کو مضبوط بناتے ہیں۔ ایسے تمام اراکین اپنے کسی قسم کے اعمال سے تنظیم یا تنظیمی ساخت کو نقصان پہنچانے سے گریز کرتے ہیں۔ کل کے اِس اجلاس میں مختلف امور پر بحث مباحثے اور دلائل پر مبنی تجاویز کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کل جو اجلاس ہو دوستوں تنظیم کے تمام اراکین کےلیے تنظیم اور تنظیمی سرگرمیاں تمام چیزوں سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں ۔تنظیم کے تمام ارکان شعوری اور فکری حوالے سے مضبوط ہیں اور فکری حوالے سے مضبوط اراکین ہی تنظیمی مضبوطی کا ضامن ہیں انھوں مزید کہا کہ ضلع گوادر میں یونیورسٹی کی قیام پر زور دیتے ہوئے کہا ضلع گوادر میں گنجان آبادی کے باوجود جامعہ کے قیام کے متعلق کوئی فیصلہ نہ لینا اور تعلیمی ادارہ قائم نہ کرنا تعلیمی حوالے سے حکومتی بے حسی اور غیرسنجیدگی کی واضح دلیل ہے۔گوادر کی تعلیمی صورتحال بلوچستان کے دیگر اضلاع کی طرح خستہ حالی کا منظر پیش کررہی ہیں پرائمری سے لیکر کالجز تک پورا تعلیمی ادارے نمایاں طور پر زبوں حالی کا شکار ہیں۔ جہاں ایک جانب تعلیمی ادارے خستہ حالی کا منظر پیش کر رہے ہیں تو دوسری جانب تعلیمی ادارے نہایت ہی قلیل تعداد میں قائم ہیں۔تعلیمی اداروں میں قلت کے باعث نوجوان کثیر تعداد میں کوئٹہ،کراچی اور دیگر صوبوں کا رخ کرتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا جہاں سی پیک اور گوادر پورٹ کے بدولت گوادر کو دنیا کے مرکزی کاروباری مرکز مانی جاتی ہے وہیں گوادر کے نوجوان تعلیم جیسے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر حکومت کی جانب سے جو ڈھونگ رچایا گیا وہ مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور آج تک پرائمری سے لیکر کالج لیول تک بیشتر تعلیمی ادارے عمارات جیسے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔اِس طرح کے حالات میں جہاں عوام کو تعلیمی سہولیات میسر نہ ہوں اور تعلیمی حوالے سے کسی قسم کی جامع پالیسی منظر عام پر نہ لائی گئی تو بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی اور ترقی جیسے تمام اصطلاحات راگ الاپنے کے مترادف تصور کیے جاتے ہیں۔
اپنے بیان کے آخر میں انھوں نے کہا کہ صوبے میں محض چند یونیورسٹیوں کے قیام کی وجہ سے نوجوان نسل تعلیمی مواقع سے مکمل طور پر محروم ہے۔تعلیم کے حصول کیلیے جہاں طالبعلم دیگر صوبوں میں ٹھوکریں کھا رہے ہوتے ہیں وہیں رواں سال انھی صوبوں میں بھی مختص نشستیں ختم کر دی گئی۔تعلیمی مواقع میسر نہ ہونے کے باعث نوجوان نسل معاشرتی بے راہ روی کا مرتکب ہورہی ہے۔گوادر کا شمار بلوچستان کے گنجان آباد اضلاع میں کیا جاتا ہے اور گوادر میں یونیورسٹی قائم نہ کرنا تعلیم دشمن پالیسیوں کی ایک واضح صبوت ہے۔حکومت وقت سے درخواست کی جاتی ہے کہ گوادر میں یونیورسٹی کے قیام کیا جائے اور کے ہر اضلا میں کم سے ٢ ڈیجٹل لائبریری ٹکنکل کالج بی ار سی کالج ڈگری کالج اور بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں کم سے کم چار ڈیجٹل لائبریری کیلیے عملی قدامات کی جائیں تاکہ علمی اور شعوری حوالے سے لیس ایک نئی نسل قوم کی روشن مستقبل کا ضامن بن سکے۔
