BSEC OFFICIAL WEBSITE

جب آپ سماج میں تبدیلی کے موضوع پہ بات کررہے ہیں تو اصل میں آپ سماج کے متعلق بات کر رہے ہیں۔ اور سماج کا سیکریٹری جنرل توانسان ہے ۔ انسان ، متحرک انسان۔ انسان معاشی سرگرمیاں کرتا ہے ، اُس سے سماجی معاملات پیداہوتے ہیں اور سیاست پید اہوتی ہے ۔یعنی انسانی معاشی سرگرمی دنیا میں خروشر کی ہر لڑائی کا مرکزہ ہوتی ہے

 
 سائنس ڈنڈے ماری کی اُلٹ چیزہے ۔ اس میں سندھی زبان کے فقرے ’’رکھ مرشد ءَ تے‘‘ کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ سائنس اِس بات کو بھی نہیں مانتی کہ’’ فی الحال جدوجہد کرتے ہیں، باقی اُس وقت دیکھیں گے‘‘۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سائنس نتائج نہیں طریقہِ کار دیکھتی ہے ، (میتھڈا لوجی، ناٹ رزلٹ)۔ لہذا بالخصوص سماجی سائنس میں کوئی ’’اچانک ‘‘ کو دجانے والا فلمی ہیرو نہیں ہوتا۔ بلکہ شخصیت تو فیصلہ کن ہوتی ہی نہیں۔ سماج میں کوئی کام ، جی ہاں انقلاب سمیت کوئی کام اچانک ، اتفاقیہ یا حادثاتاً نہیں ہوتا۔ چھینکنا کھانسنا، حتی کہ خود حادثہ بھی حادثاتاً نہیں ہوتا۔ ہر بات کے پیچھے سبب موجود ہوتے ہیں۔ کبھی ظاہر اور کبھی پوشیدہ ۔ ایسے ’’سبب‘‘ جن کی تشریح ہوسکتی ہو۔

اسباب کا قوانین سے بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب کچھ قوانین کے تحت ہوتاہے ۔ ایسے قوانین جو کسی جادو گرکے کرتبوں سے تبدیل نہیں ہوسکتے، پیر کی دم چُھوسے انہیں بدلا نہیں جاسکتا اور نہ کسی سینٹ سادھو کے مہربان یا غضبناک ہونے سے اُن کی رفتار اور راستے میں کوئی تغیر برپا ہوسکتا ہے ۔۔۔سختی سے قوانین کے تابع دنیا۔

اور دنیا کا، اشیا کا، واقعات کا سب سے بڑا اور بنیادی قانون’’ارتقا‘‘ ہے ۔ ارتقا ’’خیر‘‘ ہے ۔ ارتقا میں کسی طرح کی بھی دشمنی ’’شر‘‘ ہے ۔ لہذا ساری جدوجہد ، جنگیں، شخصی بقا کے لیے سٹر گل دراصل اسی خیر وشر کے بیچ جدوجہد ہے ۔ یعنی چیزیں، اجسام اور حالات ارتقا مانگتے ہیں مگر ’’شر ‘‘ کی قیادت میں ایک پوری رجمنٹ ایسا کرنے نہیں دیتی۔ لہذا دونوں کے بیچ ازل سے زندو مرگ والی جدوجہد جاری ہے ۔ مگر اس جدوجہد کے اپنے اصول اور قوانین ہیں۔انہی قوانین کو اگر’’خیر ‘‘ نے سمجھ کر سوچ کر استعمال کیا تو جیت خیر (ارتقا) کی ہے اور اگر اُس کے دشمن نے اُن قوانین کو اچھی طرح سمجھا اور حالات پر ٹھیک ٹھیک اطلاق کیا تو وہ جیت جاتا ہے ۔ کبھی کبھی جب دونوں اِن قوانین کو ٹھیک ٹھیک برتتے ہیں، یا دنوں ہی غلط برتتے ہیں تو دونوں ہی برباد ہوجاتے ہیں۔اور ازل سے جاری یہ کھیل ایک بارپھر نئے سرے سے شروع ہوجاتا ہے۔

یہ جو قوانین ہوتے ہیں ناں،یہ سو فیصد زمینی ہوتے ہیں، دنیاوی ہوتے ہیں۔یعنی ساری الائیں بلائیں یہیں سماج کی کوکھ سے ہی جنم لیتی ہیں۔ رام اور راونڑ کی لڑائی جیسی اساطیری داستان میں جس قدر اساطیری آمیز شیں ہوں مگر پوری طویل جنگ دنیاوی قوانین کے مطابق ہوتی ہے ۔ یعنی قوانین صرف اور صرف دنیا کے ہوتے ہیں ، بیرونِ دنیا کے بالکل بھی نہیں ۔او ریہ قوانین بھی دنیا کے اندرونی تضادات سے جنم لیتے ہیں۔

جب آپ سماج میں تبدیلی کے موضوع پہ بات کررہے ہیں تو اصل میں آپ سماج کے متعلق بات کر رہے ہیں۔ اور سماج کا سیکریٹری جنرل توانسان ہے ۔ انسان ، متحرک انسان۔ انسان معاشی سرگرمیاں کرتا ہے ، اُس سے سماجی معاملات پیداہوتے ہیں اور سیاست پید اہوتی ہے ۔یعنی انسانی معاشی سرگرمی دنیا میں خروشر کی ہر لڑائی کا مرکزہ ہوتی ہے


۔

معاشی سرگرمی ایک معاشی نظام کو جنم دیتی ہے ۔ اِس معاشی نظام میں معاشی طبقات پیدا ہوتے ہیں، اِن طبقات میں باہمی تضاد ہوتے ہیں اور انہی تضادات سے طبقاتی کشمکش پیدا ہوتی ہے ۔ ساری سیاست ، صحافت ، ثقافت ، صلح جنگ، اخلاق ،  اسی طبقاتی کشمکش کے حاملہ پیٹ سے پیدا ہوتے ہیں۔

سادہ بات یہ ہے کہ سارا جھگڑا ، ساری تقریریں ،ترانے گانے اس بات سے وابستہ ہیں کہ جہاں جہاں پیداوار ہوتی ہے وہ پیداواری جگہ (فیکٹری، کھیت ) کی ملکیت کس کی ہے ۔ آیا وہ مشترکہ ہے یا شخصی۔اگر پیداوار کی جگہ زمینیں ہیں اور وہ زمینیں ایک شخص کی ہیں، اوربقیہ آبادی محض بزگر ہے تو وہ نظام فیوڈل کہلائے گا۔ اسی طرح اگر پیداوار کی جگہ فیکٹری اورکار کانے ہیں اور اگر اُس کی ملکیت نجی ہے تو اسے کپٹلزم کہتے ہیں۔

چنانچہ طبقاتی کشمکش سماج میں ارتقا اور انقلاب کا بنیادی سبب بنتی ہے ۔ مگر یہ طبقاتی کشمکش اکیلی انقلاب نہیں لاسکتی ۔سماجی تبدیلی یا انقلاب ایسے ہی ’’سَٹی‘‘ میں نہیں آتے ۔انقلاب کے لیے طبقاتی کشمکش ایک چوکھاٹ کی محتاج رہتی ہے۔ ایک خاص حالت آجاتی ہے جب تبدیلی کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں۔ اُن میں سے ایک تو یہ ہے کہ محنت کرنے والا طبقہ نظام میں نشوونما پاتا رہتا ہے ۔ جب وہ جب اپنی نشوونما کے ایک خاص مرحلے میں مالک طبقات کے قائم کیے ہوئے سارے نظام کے ساتھ متصادم ہونے لگتا ہے اور یہ سارا نظام اِن محنت کرنے والوں کی ترقی میں مددگار بننے کے بجائے رکاوٹ بن جاتا ہے تب اُس سارے نظام کو ڈھادینے کے علاوہ کوئی اورراہ نہیں رہ جاتی ۔ کیونکہ محنت کرنے والے بہت ترقی کرجاتے ہیں اور نظام وہیں کاوہیں رہتا ہے ۔ جب دونوں میں مطابقت نہیں رہتی تو ارتقا رک جاتا ہے ۔ اور ارتقا کے بغیر تو زندگی ختم ہوتی ہے ۔چنانچہ محنت کرنے والوں اور نظام میں مطابقت پیدا کرنے کے لیے سماجی انقلاب کا برپا ہونا لازمی بن جاتا ہے ۔ تب یہ نظام ٹوٹ جاتا ہے ،اورمحنت کرنے والوں کی ارتقا کی سطح کی مطابقت میں،اور ارتقا پذیری کو مہمیز دینے والا نظام قائم ہوجاتا ہے ۔ دونوں کی مطابقت میں پیداواری قوتوں کی نشونما ہونے لگتی ہے۔تب سماجی تبدیلی کا دور شروع ہوتا ہے ۔

اس لیے سماج کے معاشی نظام اور اس معاشی نظام کے تضادات کو تلاش کرنا اور معاشی نظام کے طبقات اور ان کی باہمی کشمکش کا مطالعہ کرنا ضروری ہے ۔

Previous Post Next Post